قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصُّلْحِ (بَابٌ: كَيْفَ يُكْتَبُ هَذَا: مَا صَالَحَ فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ، وَفُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ، وَإِنْ لَمْ يَنْسُبْهُ إِلَى قَبِيلَتِهِ أَوْ نَسَبِهِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمة الباب:

2718 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ البَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الحُدَيْبِيَةِ، كَتَبَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بَيْنَهُمْ كِتَابًا، فَكَتَبَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ المُشْرِكُونَ: لاَ تَكْتُبْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، لَوْ كُنْتَ رَسُولًا لَمْ نُقَاتِلْكَ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ: «امْحُهُ»، فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا أَنَا بِالَّذِي أَمْحَاهُ، فَمَحَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، وَصَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ يَدْخُلَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، وَلاَ يَدْخُلُوهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلاَحِ، فَسَأَلُوهُ مَا جُلُبَّانُ السِّلاَحِ؟ فَقَالَ: القِرَابُ بِمَا فِيهِ

صحیح بخاری:

کتاب: صلح کے مسائل کا بیان

 

تمہید کتاب  (

باب : صلح نامہ میں لکھنا کافی ہے یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر فلاں ولد فلاں اور فلاں ولد فلاں نے صلح کی اور خاندان اور نسب نامہ لکھنا ضروری نہیں ہے ۔

)
 

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2718.   حضرت براء بن عازب  ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ نے اہل حدیبیہ سے صلح کی تو حضرت علی  ؓ نے ان کے درمیان صلح نامہ تحریر کیا۔ انھوں نے "محمدرسول اللہ ﷺ " لکھا تو مشرکین نے کہا: "محمد رسول اللہ ﷺ "نہ لکھو۔ اگر آپ اللہ کے رسول ہوتے تو ہم آپ سے لڑائی نہ کرتے، چنانچہ آپ نے حضرت علی  ؓ سے فرمایا: ’’اس کو مٹادو۔‘‘ حضرت علی  نے کہا: میں تو اس کو نہیں مٹاؤں گا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ا پنے دست انور سے مٹایا اور ان سے اس شرط پر صلح کی کہ آپ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم أجمعین (اگلے سال) تین دن تک مکہ مکرمہ میں رہیں گے اور مکہ میں داخلہ بھی جلبان السلاح کے ساتھ ہو گا۔ انھوں نے پوچھا: یہ جلبان السلاح کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’اس سے مراد نیام اور جو کچھ اس میں ہوتا ہے۔‘‘