قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَنَاقِبِ (بَابُ مَنْ أَحَبَّ أَنْ لاَ يُسَبَّ نَسَبُهُ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

3531. حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ قَالَ كَيْفَ بِنَسَبِي فَقَالَ حَسَّانُ لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنْ الْعَجِينِ وَعَنْ أَبِيهِ قَالَ ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ لَا تَسُبَّهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

صحیح بخاری:

کتاب: فضیلتوں کے بیان میں

تمہید کتاب (باب : جو شخص یہ چاہے کہ اس کے باپ دادا کو کوئی برانہ کہے۔)

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

3531.

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انھوں نےفرمایا کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی ﷺ سے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: ’’میرے نسب کا کیاکروگے؟‘‘ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: میں آپ کو ان سے ایسے نکال لوں گا جس طرح آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے۔ حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو برابھلا کہنے لگا تو انھوں نے فرمایا: انھیں برا بھلا مت کہو کیونکہ وہ نبی ﷺ کا دفاع کیا کرتے تھے۔