قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي (بَابٌ:{إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلاَ وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ المُؤْمِنُونَ} [آل عمران: 122])

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

4057. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ أَبَوَيْهِ كِلَيْهِمَا يُرِيدُ حِينَ قَالَ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي وَهُوَ يُقَاتِلُ

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

تمہید کتاب (باب:” جب تم میں سے دو جماعتیں ایسا ارادہ کر بیٹھتی تھیں کہ ہمت ہار دیں ، حالانکہ اللہ دونوں کا مدد گار تھا اور ایماندار وں کو تو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ “ ( آل عمران : 122 ))

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4057.

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے ایک دوسری روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اُحد کی لڑائی میں میرے لیے اپنے والدین کو جمع فرمایا۔ مقصد یہ ہے کہ جب وہ جنگ کر رہے تھے تو اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔‘‘