قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي (بَابُ قِصَّةِ أَهْلِ نَجْرَانَ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمة الباب:

4413 .   حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْحُسَيْنِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ جَاءَ الْعَاقِبُ وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدَانِ أَنْ يُلَاعِنَاهُ قَالَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ لَا تَفْعَلْ فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَاعَنَّا لَا نُفْلِحُ نَحْنُ وَلَا عَقِبُنَا مِنْ بَعْدِنَا قَالَا إِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَنَا وَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا وَلَا تَبْعَثْ مَعَنَا إِلَّا أَمِينًا فَقَالَ لَأَبْعَثَنَّ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ فَاسْتَشْرَفَ لَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَلَمَّا قَامَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ

صحیح بخاری:

کتاب: غزوات کے بیان میں

 

تمہید کتاب  (

باب: نجران کے نصاریٰ کا قصہ

)
  تمہید باب

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4413.   حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سردارانِ نجران عاقب اور سید مباہلے کے ارادے سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ فرمایا: ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: مباہلہ مت کرو کیونکہ اگر وہ سچے نبی ہیں اور ہم ان سے مباہلہ کریں تو ہماری اور ہماری اولاد سب کی تباہی ہو جائے گی، چنانچہ دونوں نے آپ سے عرض کی: آپ جو ہمیں فرمائیں گے ہم وہ ادا کرتے رہیں گے۔ آپ ہمارے ساتھ کسی امانت دار کو بھیج دیں۔ ازراہ کرم کسی امین ہی کو بھیجیں۔ آپ نے فرمایا: ’’میں تمہارے ساتھ ضرور ایک ایسے امانت دار کو بھیجوں گا جو اعلٰی درجے کا امین ہے۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام گردنیں اٹھا کر دیکھنے لگے (کہ وہ کون خوش قسمت ہے؟) تو آپ نے فرمایا: ’’ابو عبیدہ بن جراح! کھڑے ہو جاؤ۔‘‘ پھر جب وہ کھڑے ہو گئے تو آپ نے فرمایا: ’’یہ شخص اس امت کا امین ہے۔‘‘