قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابٌ: الأَذَانُ مَثْنَى مَثْنَى)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

606. حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ» قَالَ: «ذَكَرُوا أَنْ يَعْلَمُوا وَقْتَ الصَّلاَةِ بِشَيْءٍ يَعْرِفُونَهُ، فَذَكَرُوا أَنْ يُورُوا نَارًا، أَوْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا فَأُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ، وَأَنْ يُوتِرَ الإِقَامَةَ»

مترجم:

606. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب مسلمان (مدینہ طیبہ میں) زیادہ ہو گئے تو مشورہ ہوا کہ کسی ایسی چیز کے ذریعے سے نماز کے وقت کا اعلان ہو جسے سب لوگ سمجھ لیں۔ کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ آگ کا الاؤ روشن کر دیا جائے یا ناقوس کے ذریعے سے اعلان کر دیا جائے۔ آخرکار بلال ؓ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ کہے۔