قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَدَبِ (بَابُ إِجَابَةِ دُعَاءِ مَنْ بَرَّ وَالِدَيْهِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

6027. حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَمَا ثَلاَثَةُ نَفَرٍ يَتَمَاشَوْنَ أَخَذَهُمُ المَطَرُ، فَمَالُوا إِلَى غَارٍ فِي الجَبَلِ، فَانْحَطَّتْ عَلَى فَمِ غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِنَ الجَبَلِ فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْظُرُوا أَعْمَالًا عَمِلْتُمُوهَا لِلَّهِ صَالِحَةً، فَادْعُوا اللَّهَ بِهَا لَعَلَّهُ يَفْرُجُهَا. فَقَالَ أَحَدُهُمْ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ، وَلِي صِبْيَةٌ صِغَارٌ، كُنْتُ أَرْعَى عَلَيْهِمْ، فَإِذَا رُحْتُ عَلَيْهِمْ فَحَلَبْتُ بَدَأْتُ بِوَالِدَيَّ أَسْقِيهِمَا قَبْلَ وَلَدِي، وَإِنَّهُ نَاءَ بِيَ الشَّجَرُ، فَمَا أَتَيْتُ حَتَّى أَمْسَيْتُ فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا، فَحَلَبْتُ كَمَا كُنْتُ أَحْلُبُ، فَجِئْتُ بِالحِلاَبِ فَقُمْتُ عِنْدَ رُءُوسِهِمَا، أَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمِهِمَا، وَأَكْرَهُ أَنْ أَبْدَأَ بِالصِّبْيَةِ قَبْلَهُمَا، وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَيَّ، فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ دَأْبِي وَدَأْبَهُمْ حَتَّى طَلَعَ الفَجْرُ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا فُرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ. فَفَرَجَ اللَّهُ لَهُمْ فُرْجَةً حَتَّى يَرَوْنَ مِنْهَا السَّمَاءَ. وَقَالَ الثَّانِي: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَتْ لِي ابْنَةُ عَمٍّ أُحِبُّهَا كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَاءَ، فَطَلَبْتُ إِلَيْهَا نَفْسَهَا، فَأَبَتْ حَتَّى آتِيَهَا بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَسَعَيْتُ حَتَّى جَمَعْتُ مِائَةَ دِينَارٍ فَلَقِيتُهَا بِهَا، فَلَمَّا قَعَدْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا قَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ، وَلاَ تَفْتَحِ الخَاتَمَ، فَقُمْتُ عَنْهَا، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي قَدْ فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا. فَفَرَجَ لَهُمْ فُرْجَةً. وَقَالَ الآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنِّي كُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقِ أَرُزٍّ، فَلَمَّا قَضَى عَمَلَهُ قَالَ: أَعْطِنِي حَقِّي، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَقَّهُ فَتَرَكَهُ وَرَغِبَ عَنْهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعُهُ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرَاعِيَهَا، فَجَاءَنِي فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ وَلاَ تَظْلِمْنِي وَأَعْطِنِي حَقِّي، فَقُلْتُ: اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ البَقَرِ وَرَاعِيهَا، فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ وَلاَ تَهْزَأْ بِي، فَقُلْتُ: إِنِّي لاَ أَهْزَأُ بِكَ، فَخُذْ ذَلِكَ البَقَرَ وَرَاعِيَهَا، فَأَخَذَهُ فَانْطَلَقَ بِهَا، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَافْرُجْ مَا بَقِيَ. فَفَرَجَ اللَّهُ عَنْهُمْ

مترجم:

6027.

حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ایک دفعہ تین آدمی کہیں جا رہے تھے کہا انہیں بارش نے آ لیا۔ وہ پہاڑ کے غار میں گھس گئے، پھر غار کے منہ پر پہاڑ کی بہت بڑی چٹان گری جس سے اس کا منہ بند ہو گیا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: تم نے جو نیک کام کیے ہیں ان میں سے جو خالص اللہ کے لیے کیا ہے اس کے ذریعے سے اللہ کے حضور دعا کرو، ممکن ہے کہ وہ غار کو کھول دے چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے والدین بوڑھے تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے میں ان کے لیے بکریوں کا دودھ نکال کر اپنے والدین سے اس کی ابتدا کرتا، ان کے بعد اپنے بچوں کو پلاتا تھا۔ ایک دن درختوں کی تلاش میں بہت دور چلا گیا اور شام کو بہت دیر سے گھر آیا۔ میں نے والدین کو دیکھا کہ وہ سو گئے ہیں تاہم میں نے حسب معمول دودھ نکالا پھر تازہ دودھ لے کر والدین کے سرہانے کھڑا ہو گیا۔ مجھے یہ گوارا نہ تھا کہ انہیں بیدار کروں اور یہ بھی پسند نہ تھا کہ ان سے پہلے اپنے بچوں کو دودھ پلاوں۔ بچے بھوک کے مارے میرے قدموں پر لوٹ پوٹ رہے تھے اور اسی کشمکش میں صبح ہو گئی۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ عمل تیری رضا کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے راستہ کھول دے تاکہ ہم آسمان دیکھ سکیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اتنی کشادگی پیدا کر دی کہ وہ آسمان دیکھ سکتے تھے۔ پھر دوسرے نے کہا: اے اللہ! میری ایک چچا زاد بیٹی تھی جس سے میں بہت محبت کرتا تھا جس طرح لوگ عورتوں سے محبت کرتے ہیں۔ میں نے اس سے اس کے نفس کا مطالبہ کیا تو اس نے انکار کر دیا، صرف اس شرط پرراضی ہوئی کہ میں اسے سو دینار دوں۔ میں نے دوڑ دھوپ کر کے سو دینار جمع کیا اور انہیں لے کر اس کے پاس آیا، پھر جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا اے اللہ کے بندے! اللہ سے ڈر اور اس مہر کو ناحق مت توڑ، چنانچہ میں یہ سن کر وہاں سے کھڑا ہو گیا۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ عمل محض تیری رضا کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے کچھ اور کشادگی پیدا کر دے۔ اللہ تعالٰی نے ان کے لیے کچھ مزید کشادگی پیدا کر دی تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ! میں نے ایک مزدور کو ایک فرق چاول کی مزدوری پر رکھا تھا۔ جب اس نےاپنا کام پورا کر لیا تو کہا مجھے میرا حق دو۔ میں نے اس کا حق پیش کر دیا لیکن وہ چھوڑ کر چلا گیا اور اس کی طرف اس نے کوئی توجہ نہ دی۔ اس کے بعد میں اس سے کاشت کرتا رہا حتیٰ کہ میں نے اس سے بیل گائیں اور ایک چرواہا خرید لیا۔ کچھ مدت بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ سے ڈر اور مجھ پر ظلم نہ کر، نیز میرا حق مجھے واپس کر دے۔ میں نے کہا: یہ بیل گائیں اور چرواہا سب لے جاؤ۔ اس نے کہا: اللہ سے ڈر اور مجھ سے مذاق نہ کر۔ میں نے کہا: میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کر رہا ہوں۔ یہ بیل گائیں اور چرواہا لے جاؤ چنانچہ وہ انہیں لے کر چلا گیا اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ عمل تیری رضا طلبی کے لیے کیا ہے تو جو رکاوٹ باقی رہ گئی ہے اسے بھی کھول دے، چنانچہ اللہ تعالٰی نے باقی تمام پتھر ان سے ہٹا دیا۔