قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابٌ: يَهْوِي بِالتَّكْبِيرِ حِينَ يَسْجُدُ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: وَقَالَ نَافِعٌ: «كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَضَعُ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ»

817.  حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، غَيْرَ مَرَّةٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: سَقَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ - وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: مِنْ فَرَسٍ - فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ، فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا وَقَعَدْنَا - وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: صَلَّيْنَا قُعُودًا - فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا قَالَ سُفْيَانُ: كَذَا جَاءَ بِهِ مَعْمَرٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: لَقَدْ حَفِظَ كَذَا، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَلَكَ الحَمْدُ حَفِظْتُ مِنْ شِقِّهِ الأَيْمَنِ، فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَأَنَا عِنْدَهُ، فَجُحِشَ سَاقُهُ الأَيْمَنُ

مترجم:

ترجمۃ الباب:

اور نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر ؓ ( سجدہ کرتے وقت ) پہلے ہاتھ زمین پر ٹیکتے، پھر گھٹنے ٹیکتے۔اس تعلیق کو ابن خزیمہ اور طحاوی نے موصولاً ذکر کیا ہے۔ امام مالک کا یہی قول ہے۔ لیکن باقی تینوں اماموں نے یہ کہاہے کہ پہلے گھٹنے ٹیکے پھر ہاتھ زمین پر رکھے۔ نووی نے کہا دلیل کی رو سے دونوں مذہب برابر ہیں اور اسی لیے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے ایک روایت یہ ہے کہ نمازی کو اختیار ہے، چاہے گھٹنے پہلے رکھے چاہے ہاتھ۔ اور ابن قیم نے وائل بن حجر کی حدیث کو ترجیح دی ہے، جس میں مذکور ہے کہ جب آنحضرت ﷺ سجدہ کرنے لگتے تو پہلے گھٹنے زمین پر رکھتے پھر ہاتھ ( مولانا وحید الزماں مرحوم )درست یہ ہے کہ حدیث ابوہریرہ راجح اور اصح ہے جو مسلم میں موجود ہے اور اس میں ہاتھ پہلے اور گھٹنے بعد میں ٹیکنے کا مسئلہ بیان ہے۔

817. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ گھوڑے سے گر پڑے تو آپ کی دائیں جانب زخمی ہو گئی۔ ہم لوگ آپ کی خدمت میں تیمارداری کے لیے حاضر ہوئے، اتنے میں نماز کا وقت آ گیا تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم بھی بیٹح گئے ۔۔ سفیان راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ بیان کیے کہ ہم نے بیٹھ کر نماز پڑھی ۔۔ جب آپ نماز ادا کر چکے تو فرمایا: "امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، لہذا جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم ربنا ولك الحمد کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔" حضرت سفیان نے کہا: کیا معمر نے اس طرح بیان کیا؟ میں نے کہا: ہاں۔ سفیان نے کہا: اس نے خوب یاد رکھا۔ زہری فرماتے ہیں کہ مجھے ولك الحمد اور شقه الأيمن کے الفاظ یاد ہیں۔ جب امام زہری کے پاس سے واپس آئے تو ابن جریج نے کہا کہ میں زہری کے پاس تھا تو انہوں نے یہ الفاظ بیان کیے: آپ کی دائیں پنڈلی زخمی ہو گئی۔