قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: صفات و شمائل

‌صحيح البخاري: کِتَابُ مَا جَاءَ فِي السَّهْوِ (بَابُ الإِشَارَةِ فِي الصَّلاَةِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب: قاله كريب , عن ام سلمة ؓعن النبي ﷺ .

1235.   حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ هِشَامٍ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ تُصَلِّي قَائِمَةً وَالنَّاسُ قِيَامٌ فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَقُلْتُ آيَةٌ فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ نَعَمْ

صحیح بخاری:

کتاب: سجدہ سہو کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: نماز میں اشارہ کرنا

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

ترجمۃ الباب:

‏‏‏‏ یہ کریب نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے نقل کیا، انہوں نے نبی کریمﷺ سے۔

1235.   حضرت اسماء ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں حضرت عائشہ‬ ؓ  ک‬ے پاس گئی جبکہ وہ کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں اور لوگ بھی کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے پوچھا: لوگوں کا کیا ماجرا ہے؟ تو انہوں نے اپنے سر سے آسمان کی طرف اشارہ فرمایا۔ میں نے کہا: (قدرت کی) کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے پھر اپنے سر سے اشارہ کر کے فرمایا: ہاں۔