قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الصَّوْمِ (بَابُ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

2006.   حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمٍ فَضَّلَهُ عَلَى غَيْرِهِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهَذَا الشَّهْرَ يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ

صحیح بخاری:

کتاب: روزے کے مسائل کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب : اس بارے میں کہ عاشوراء کے دن کا روزہ کیسا ہے؟

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2006.   حضرت ابن عباس  ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو نہیں دیکھا کہ عاشوراء کے دن اور رمضان کے مہینے کے علاوہ کسی دن کو افضل سمجھ کر آپ نے اس کا روزہ رکھا ہو۔