قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ (بَابُ قَوْلِهِ: {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ})

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

4881.   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَظِلٍّ مَمْدُودٍ

صحیح بخاری:

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب:آیت (( وظل ممدود.... الایۃ )) کی تفسیر”اور جنت کے درختوں کا بہت ہی لمبا سایہ ہو گا“۔

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

4881.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ تک اس حدیث کو پہنچاتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جنت میں ایک اتنا بڑا درخت ہے جس کے سائے میں اگر سوار سو برس تک چلتا رہے تو بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو گا۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: ﴿وَظِلٍّۢ مَّمْدُودٍ﴾  اور لمبے لمبے سائے۔‘‘