قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ إِذَا زَوَّجَ ابْنَتَهُ وَهِيَ كَارِهَةٌ فَنِكَاحُهُ مَرْدُودٌ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

5138.   حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ الْأَنْصَارِيَّةِ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهْيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهُ.

صحیح بخاری:

کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: اگر کسی نے اپنی بیٹی کا نکاح (وہ کنواری ہو یا بیوہ) جبراً کر دیا تو یہ نکاح باطل ہو گا۔

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

5138.   سیدہ خنساء بنت خدام انصاریہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا جبکہ وہ ثیبہ (شوہر دیدہ) تھیں۔ انہیں یہ نکاح منظور نہیں تھا۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ ﷺ نے اس کا نکاح فسخ کر ڈالا۔