قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ (بَابُ مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

5482.   حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا، إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ، أَوْ ضَارِيًا، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ»

صحیح بخاری:

کتاب: ذبیح اور شکار کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: اس کے بیان میں جس نے ایسا کتا پالا جو نہ شکار کے لیے ہو اور نہ مویشی کی حفاظت کے لیے

)
 

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

5482.   سیدنا عبداللہ بن عمر سے ایک اور روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مویشی کی حفاظت یا شکار کی غرض کے علاوہ کتا پالا اس کے ثواب سے روزانہ دو قیراط کی کمی ہو جاتی ہے۔“