قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَشْرِبَةِ (بَابُ مَنْ شَرِبَ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

5618.   حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الفَضْلِ بِنْتِ الحَارِثِ: «أَنَّهَا أَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِ لَبَنٍ، وَهُوَ وَاقِفٌ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَشَرِبَهُ» زَادَ مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ: «عَلَى بَعِيرِهِ»

صحیح بخاری:

کتاب: مشروبات کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: جس نے اونٹ پر بیٹھ کر ( پانی یا دودھ ) پیا

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

5618.   حضرت ام فضل بنت حارث ؓ سے روایت ہے انہوں نے نبی ﷺ کے لیے دودھ کا ایک پیالہ بھیجا جبکہ آپ عرفہ کی شام میدان عرفات میں کھڑے تھے۔ آپ نے وہ پیالہ اپنے دست مبارک سے لیا اور اسے نوش فرمایامالک نے ابو نضر سے بیان کیا تو اس روایت میں یہ اضافہ تھا کہ آپ اس وقت اونٹ پر تشریف فر تھے