قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَدَبِ (بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ النَّمِيمَةِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب: وَقَوْلِهِ: {هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ} [القلم: 11] {وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ} [الهمزة: 1]: يَهْمِزُ وَيَلْمِزُ: وَيَعِيبُ وَاحِدٌ

6056.   حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ رَجُلًا يَرْفَعُ الحَدِيثَ إِلَى عُثْمَانَ، فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَتَّاتٌ»

صحیح بخاری:

کتاب: اخلاق کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: چغل خوری کی برائی کا بیان

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

ترجمۃ الباب:

اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ نون میں فرمایا عیب جو ، چغل خور اور سورۃ ہمزہ میں میں فرمایا ہر عیب جو آواز سے کسنے والے کی خرابی ہے ، یہمز و یلمز اور یعیب سب کے معنی ایک ہیں ۔ یعنی عیب بیان کرتا ہے طعنے مارتا ہے ۔

6056.   حضرت ہمام سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم حضرت حذیفہ ؓ کے پاس موجود تھے کہ انہیں ایک شخص کے متعلق کہا گیا وہ یہاں کی باتیں حضرت عثمان بن عفان ؓ کو پہچاتا ہے حضرت حذیفہ ؓ نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔“