قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ (بَابُ إِذَا أَهْدَى مَالَهُ عَلَى وَجْهِ النَّذْرِ وَالتَّوْبَةِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

6690.   حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ فِي حَدِيثِهِ وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا فَقَالَ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ

صحیح بخاری:

کتاب: قسموں اور نذروں کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: جب کوئی شخص اپنا مال نذر یا توبہ کے طور پر خیرات کر دے

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6690.   عبد الرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت ہے (وہ اپنے باپ عبداللہ بن کعب سے بیان کرتے ہیں)۔ اور جب حضرت کعب بن مالک ؓ نا بینا ہوگئے تھے تو ان کی اولاد میں سے یہی (عبداللہ بن کعب) ان کو لے کر چلا کرتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک ؓ سے ان کی حدیث سنی جو ان حضرات سے متعلق تھی جو غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔ انہوں نے اپنی سرگزشت کے آخر میں کہا: میں نے یہ پیش کش كى کہ اپنی توبہ کی خوشی میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے لیے صدقہ کر کے اس سے خالی ہونا چاہتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال اپنے پاس ہی رکھو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔“