قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ (بَابُ إِذَا نَذَرَ، أَوْ حَلَفَ:أَنْ لاَ يُكَلِّمَ إِنْسَانًا فِي الجَاهِلِيَّةِ، ثُمَّ أَسْلَمَ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

6697.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَالَ أَوْفِ بِنَذْرِكَ

صحیح بخاری:

کتاب: قسموں اور نذروں کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: جب کسی نے جاہلیت میں ( اسلام لانے سے پہلے ) کسی شخص سے بات نہ کرنے کی نذر مانی ہو یا قسم کھائی ہو پھر اسلام لایا ہو ؟

)
 

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6697.   حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کرو۔“