قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ التَّعْبِيرِ (بَابُ النَّفْخِ فِي المَنَامِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

7037.   وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أُوتِيتُ خَزَائِنَ الأَرْضِ، فَوُضِعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَكَبُرَا عَلَيَّ وَأَهَمَّانِي، فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا، فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا الكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا: صَاحِبَ صَنْعَاءَ، وَصَاحِبَ اليَمَامَةِ

صحیح بخاری:

کتاب: خوابوں کی تعبیر کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب : خواب میں پھونک مارتے دیکھنا

)
 

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

7037.   رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں سویا ہوا تھا کہ اس دوران میں زمین کے خزانے مجھے پیش کیے گئے، نیز میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن رکھ دیے گئے جو مجھے بہت ناگوار گزرے اور انہوں نے مجھے پریشان کر دیا۔ چنانچہ میری طرف وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونک ماروں۔ میں نے پھونک ماری تو وہ اڑ گئے۔ میں نے ان کی تعبیر دو کذابوں سے کی، جن کے درمیان میں ہوں: ایک صاحب صنعاء اور دوسرا صاحب یمامہ ہے۔“