قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَالرَدُّ عَلَی الجَهمِيَةِ وَغَيرٌهُم (بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي} [طه: 39]، «تُغَذَّى»،)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب: وَقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ: {تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا} [القمر: 14]

7407.   حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَى عَلَيْكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَيْنِهِ وَإِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ

صحیح بخاری:

کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں اور جهميہ وغیرہ کی تردید

 

کتاب تمہید  (

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ طہٰ میں) موسیٰ علیہ السلام سے فرمانا کہ ”میری آنکھوں کے سامنے تو پرورش پائے“۔

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

ترجمۃ الباب:

‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ کا ارشاد (سورۃ القمر میں’’ نوح کی کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے پانی پر تیر رہی تھی۔

 

 

7407.   سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی تم پر مخفی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کانا نہیں۔۔۔ اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اپنی آنکھ کی طرف اشارہ فرمایا:۔۔۔۔ اور بلاشبہ مسیح دجال دائیں آنکھ سے کانا ہوگا جیسے اس کی آنکھ پر ایک ابھر ہوا انگور کا دانہ ہو۔“