قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَالرَدُّ عَلَی الجَهمِيَةِ وَغَيرٌهُم (بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي} [طه: 39]، «تُغَذَّى»،)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب: وَقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ: {تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا} [القمر: 14]

7408.   حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَنْذَرَ قَوْمَهُ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ

صحیح بخاری:

کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں اور جهميہ وغیرہ کی تردید

 

کتاب تمہید  (

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ طہٰ میں) موسیٰ علیہ السلام سے فرمانا کہ ”میری آنکھوں کے سامنے تو پرورش پائے“۔

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

ترجمۃ الباب:

‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ کا ارشاد (سورۃ القمر میں’’ نوح کی کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے پانی پر تیر رہی تھی۔

 

 

7408.   سیدنا انس ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی نبی بھیجے ہیں ان سب نے اپنی قوم کو کانے کذاب سے ضرور خبردار کیا ہے۔ وہ (دجال) کانا ہے اور تمہارا رب کانا نہیں۔ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا۔“