قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ (بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ رَدَّ السَّلاَمِ عَلَى الإِمَامِ وَاكْتَفَى بِتَسْلِيمِ الصَّلاَةِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

839.   حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَزَعَمَ أَنَّهُ: «عَقَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا مِنْ دَلْوٍ كَانَ فِي دَارِهِمْ

صحیح بخاری:

کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: اس بارے میں کہ امام کو سلام کرنے کی ضرورت نہیں، صرف نماز کے دو سلام کافی ہیں۔

)
 

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

839.   حضرت محمود بن ربیع ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی آمد یاد ہے اور مجھے ہوش ہے جب رسول اللہ ﷺ نے ہمارے گھر میں ڈول سے کلی کر کے میرے منہ پر پانی ڈالا تھا۔