قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

‌صحيح البخاري: کِتَابُ العِيدَيْنِ (بَابُ الصَّلاَةِ قَبْلَ العِيدِ وَبَعْدَهَا)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب: وَقَالَ أَبُو المُعَلَّى: سَمِعْتُ سَعِيدًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «كَرِهَ الصَّلاَةَ قَبْلَ العِيدِ»

989.   حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا وَمَعَهُ بِلَالٌ

صحیح بخاری:

کتاب: عیدین کے مسائل کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: عیدگاہ میں عید کی نماز سے پہلے یا اس کے بعد نفل نماز پڑھنا کیسا ہے۔

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

ترجمۃ الباب:

‏‏‏‏ اور ابومعلی یحییٰ بن میمون نے کہا کہ میں نے سعید سے سنا، وہ ابن عباس ؓ سے روایت کرتے تھے کہ آپ عید سے پہلے نفل نماز پڑھنا مکروہ جانتے تھے۔

989.   حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ عیدالفطر کے دن باہر تشریف لے گئے۔ ہاں دو رکعت نماز عید پڑھی لیکن اس سے پہلے اور اس کے بعد کچھ نہیں پڑھا۔ آپ کے ہمراہ حضرت بلال ؓ تھے۔