قسم الحديث (القائل): موقوف ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابٌ: كَيْفَ يُقْبَضُ العِلْمُ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: وَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ العَزِيزِ إِلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ: انْظُرْ مَا كَانَ مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَاكْتُبْهُ، فَإِنِّي خِفْتُ دُرُوسَ العِلْمِ وَذَهَابَ العُلَمَاءِ، وَلاَ تَقْبَلْ إِلَّا حَدِيثَ النَّبِيِّ ﷺ «وَلْتُفْشُوا العِلْمَ، وَلْتَجْلِسُوا حَتَّى يُعَلَّمَ مَنْ لاَ يَعْلَمُ، فَإِنَّ العِلْمَ لاَ يَهْلِكُ حَتَّى يَكُونَ سِرًّا» حَدَّثَنَا العَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الجَبَّارِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ: بِذَلِكَ، يَعْنِي حَدِيثَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ العَزِيزِ، إِلَى قَوْلِهِ: ذَهَابَ العُلَمَاءِ

100. حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ بِذَلِكَ ، يَعْنِي حَدِيثَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى قَوْلِهِ : ذَهَابَ الْعُلَمَاءِ

مترجم:

ترجمۃ الباب:

اور ( خلیفہ خامس ) حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ابوبکر بن حزم کو لکھا کہ تمہارے پاس رسول اللہ ﷺکی جتنی بھی حدیثیں ہوں، ان پر نظر کرو اور انھیں لکھ لو، کیونکہ مجھے علم دین کے مٹنے اور علماء دین کے ختم ہو جانے کا اندیشہ ہے اور رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی کی حدیث قبول نہ کرو اور لوگوں کو چاہیے کہ علم پھیلائیں اور ( ایک جگہ جم کر ) بیٹھیں تا کہ جاہل بھی جان لے اور علم چھپانے ہی سے ضائع ہوتا ہے۔ ہم سے علاء بن عبدالجبار نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے عبداللہ بن دینار کے واسطے سے اس کو بیان کیا یعنی عمر بن عبدالعزیز کی حدیث ذہاب العلماء تک۔مقصد یہ کہ پڑھنے پڑھانے ہی سے علم دین باقی رہ سکے گا۔ اس میں کوتاہی ہرگز نہ ہونی چاہئیے

100.

ہم سے علا بن عبد الجبار نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا ہم سے عبد العزیز بن مسلم نے عبد اللہ بن دینار کے واسطے سے اس کو بیان کیا یعنی عمر بن عبد العزیز کی حدیث ذہاب العلماء تک۔