قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا (بَابُ مَنْ لَمْ يَقْبَلِ الهَدِيَّةَ لِعِلَّةٍ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: وَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ العَزِيزِ: «كَانَتِ الهَدِيَّةُ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ هَدِيَّةً، وَاليَوْمَ رِشْوَةٌ»

2506. حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيَّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُخْبِرُ أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ بِالأَبْوَاءِ - أَوْ بِوَدَّانَ - وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ، قَالَ صَعْبٌ: فَلَمَّا عَرَفَ فِي وَجْهِي رَدَّهُ هَدِيَّتِي قَالَ: «لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ»

مترجم:

ترجمۃ الباب:

حضرت عمر بن عبدالعزیز  نے کہا کہ ہدیہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہد یہ تھا، لیکن آج کل تو رشوت ہے۔

2506.

حضرت صعب بن جثامہ  ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ کے صحابی ہیں، انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک گورخر تحفے کے طور پر پیش کیا۔ آپ اس وقت ابواء یا ودان میں حالت احرام میں تھے۔ ۔ ۔ آپ نے وہ (گورخر) واپس کردیا۔ جب آپ ﷺ نے ہدیہ واپس کردینے کی وجہ سے میرے چہرے پر ناگواری دیکھی تو فرمایا: ’’تمہارا ہدیہ واپس کرنا مناسب تو نہ تھا لیکن بات یہ ہے کہ ہم حالت احرام میں ہیں۔‘‘