قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ {قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا})

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

4987. حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ فَالْإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَهِيَ مَسْئُولَةٌ وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ

مترجم:

4987.

سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے باز پرس ہوگی۔“ حاکم وقت نگہبان ہے، اسے بھی پوچھا جائے گا۔ مرد، اپنے اہل خانہ کا نگران ہے، اس سے سوال و جواب ہوگا۔ عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے اس سے بھی پوچھا جائے گا۔ اور غلام اپنے آقا کے مال کا نگران ہے، اسے پوچھا جائے گا۔ الغرض تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم سے ہر ایک سے سوال ہوگا۔