باب: شہد کی شراب جسے ” بتع “ کہتے تھے اور معن بن عیسیٰ نے کہا کہ
)
Sahi-Bukhari:
Drinks
(Chapter: Alcoholic drinks prepared from honey)
مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
ترجمۃ الباب:
میں نے حضرت امام مالک بن انس سے ” فقاع “ ( جو کشمش سے تیار کی جاتی تھی ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اگر اس میں نشہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں اور ابن الدراوردی نے بیان کیا کہ ہم نے اس کے متعلق پوچھا تو کہا کہ اگر اس میں نشہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ۔تشریح : بتع شہد کی وہ شراب ہے جو ملک یمن میں بہت زیادہ رائج تھی۔ اس کا پینا بھی حرام کردیا گیا۔ فقاع وہ شراب ہے جو کشمش سے تیار کی جاتی تھی۔
5587.
سیدنا انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کدو اور تارکول کے برتنوں میں نبیذ نہ بناؤ۔“ سیدنا ابو ہریرہ ؓ ان دو برتنوں کے ساتھ روغنی مرتبان اور کھجور کے تنے کو کھود کر تیار کردہ برتن کا بھی اضافہ کیا کرتے تھے۔
تشریح:
قبل از اسلام لوگ جن برتنوں میں شراب بنایا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں نبیذ بنانے سے بھی منع کر دیا۔ اس غرض سے عموماً چار قسم کے برتن استعمال ہوتے تھے جن کی تفصیل ہم آئندہ بیان کریں۔ اس حدیث میں ان چار برتنوں کا بیان ہے۔ حرمت شراب کی ابتدا میں ان برتنوں کے استعمال سے بھی منع فرما دیا گیا مگر بعد میں ان کی اجازت دے دی گئی۔
ترقیم حرف کمپنی (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
5375
٧
ترقيم دار طوق النّجاة (جامع خادم الحرمين للسنة النبوية)
ترقیم دار طوق النجاۃ (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
5587
٨
ترقيم فؤاد عبد الباقي (دار السلام)
ترقیم فواد عبد الباقی (دار السلام)
5587
١٠
ترقيم فؤاد عبد الباقي (داود راز)
ترقیم فواد عبد الباقی (داؤد راز)
5587
تمہید کتاب
الاشربه، شراب کی جمع ہے۔ ہر بہنے والی چیز جسے نوش کیا جائے وہ شراب کہلاتی ہے۔ ہمارے ہاں اسے مشروب کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے بے شمار مشروبات پیدا کیے ہیں، پھر اس نے کمال رحمت سے کچھ ایسی پینے کی چیزیں حرام کی ہیں جو اس کی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں یا اس کی عقل کو خراب کرتی ہیں، لیکن ممنوع مشروبات بہت کم ہیں۔ ان کے علاوہ ہر پینے والی چیز حلال اور جائز ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اللہ کے رزق میں سے کھاؤ اور پیو۔" (البقرۃ: 2/60) حلال مشروبات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان انہیں نوش کر کے اللہ کی اطاعت گزاری میں خود کو مصروف رکھے۔ مشروبات کے متعلق اسلامی تعلیمات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ایک وہ جن میں مشروبات کی حلت و حرمت بیان کی گئی ہے، دوسرے وہ جن میں پینے کے وہ آداب بیان کیے گئے ہیں جن کا تعلق سلیقہ و وقار سے ہے یا ان میں کوئی طبی مصلحت کارفرما ہے یا وہ اللہ کے ذکر و شکر کی قبیل سے ہیں اور ان کے ذریعے سے پینے کے عمل کو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ بنا دیا جاتا ہے اگرچہ بظاہر ایک مادی عمل اور نفس کا تقاضا ہوتا ہے۔ مشروبات کی حلت و حرمت کے متعلق بنیادی بات وہ ہے جسے قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: "وہ (نبی) اچھی اور پاکیزہ چیزوں کو اللہ کے بندوں کے لیے حلال اور خراب اور گندی چیزوں کو ان کے لیے حرام قرار دیتا ہے۔" (الاعراف: 7/157) قرآن و حدیث میں مشروبات کی حلت و حرمت کے جو احکام ہیں وہ اسی آیت کے اجمال کی تفصیل ہیں۔ جن مشروبات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے ان میں کسی نہ کسی پہلو سے ظاہری یا باطنی خباثت ضرور ہے۔ قرآن مجید میں مشروبات میں سے صراحت کے ساتھ شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ یہ خبیث ہی نہیں بلکہ ام الخبائث ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس عنوان کے تحت جو احادیث پیش کی ہیں ہم انہیں چند حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: ٭ وہ احادیث جن میں حرام مشروبات کی تفصیل ہے۔ آپ کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی مشروب کو استعمال سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ حرام تو نہیں کیونکہ ایسا مشروب جو نشہ آور ہو یا عقل کے لیے ضرر رساں یا انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو اسے شریعت نے حرام کیا ہے۔ ٭ ایسی احادیث بیان کی ہیں جن میں وضاحت ہے کہ شراب صرف وہ حرام نہیں جو انگوروں سے بنائی گئی ہو بلکہ شراب کی حرمت کا مدار اس کے نشہ آور ہونے پر ہے، خواہ کسی چیز سے تیار کی گئی ہو۔ ٭ جن برتنوں میں شراب کشید کی جاتی تھی، ان کے استعمال کے متعلق احادیث بیان کی گئی ہیں کہ ان کا استعمال پہلے حرام تھا، جب شراب کی نفرت دلوں میں اچھی طرح بیٹھ گئی تو ایسے برتنوں کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ ٭ ان احادیث کو ذکر کیا ہے جن میں مختلف مشروبات کے استعمال کی اجازت مروی ہے، خواہ وہ پھلوں کا جوس ہو یا کھجوروں کا نبیذ وغیرہ بشرطیکہ ان میں نشہ نہ ہو۔ ٭ پینے کے آداب بیان کیے ہیں کہ مشکیزے کے منہ سے نہ پیا جائے اور نہ سونے چاندی کے برتنوں کو کھانے پینے کے لیے استعمال ہی کیا جائے، اس کے علاوہ پینے کے دوران میں برتن میں سانس نہ لیا جائے۔ ٭ ان کے علاوہ کھڑے ہو کر پینے کی حیثیت، جس برتن میں کوئی مشروب ہو اسے ڈھانپنا، پینے پلانے کے سلسلے میں چھوٹوں کا بڑوں کی خدمت کرنا وغیرہ آداب پر مشتمل احادیث بیان کی گئی ہیں۔الغرض امام بخاری رحمہ اللہ نے مشروبات کے احکام و مسائل بیان کرنے کے لیے اکانوے (91) احادیث کا انتخاب کیا ہے، جن میں انیس (19) معلق اور بہتر (72) احادیث متصل سند سے ذکر کی ہیں، پھر ستر (70) کے قریب مکرر اور اکیس (21) خالص ہیں۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے آٹھ (8) احادیث کے علاوہ امام بخاری رحمہ اللہ کی بیان کردہ احادیث کو اپنی صحیح میں بیان کیا ہے۔ مرفوع احادیث کے علاوہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ کے چودہ (14) آثار بھی بیان کیے ہیں جن سے امام بخاری رحمہ اللہ کی وسعت نظر کا پتا چلتا ہے۔ آپ نے ان احادیث و آثار پر اکتیس (31) چھوٹے چھوٹے عنوانات قائم کر کے بے شمار احکام و مسائل کا استنباط کیا ہے۔ ہم ان شاءاللہ عنوانات اور بیان کردہ احادیث کی دیگر احادیث کی روشنی میں وضاحت کریں گے۔ قارئین کرام سے گزارش ہے کہ وہ ہماری معروضات کو سامنے رکھتے ہوئے ان احادیث کا مطالعہ کریں، امید ہے کہ علمی بصیرت میں اضافے کا باعث ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے مطابق عمل کی توفیق دے۔
تمہید باب
فُقاع، وہ مشروب ہے جو خشک انگوروں سے تیار کیا جاتا تھا۔ اگر اس میں نشہ نہ ہو تو اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی چیز کے زیادہ پینے سے نشہ نہیں آتا تو اسے پیا جا سکتا ہے جیسا کہ فُقاع مشروب کے متعلق وضاحت کی گئی ہے۔ واللہ اعلم
میں نے حضرت امام مالک بن انس سے ” فقاع “ ( جو کشمش سے تیار کی جاتی تھی ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اگر اس میں نشہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں اور ابن الدراوردی نے بیان کیا کہ ہم نے اس کے متعلق پوچھا تو کہا کہ اگر اس میں نشہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ۔تشریح : بتع شہد کی وہ شراب ہے جو ملک یمن میں بہت زیادہ رائج تھی۔ اس کا پینا بھی حرام کردیا گیا۔ فقاع وہ شراب ہے جو کشمش سے تیار کی جاتی تھی۔
حدیث ترجمہ:
سیدنا انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کدو اور تارکول کے برتنوں میں نبیذ نہ بناؤ۔“ سیدنا ابو ہریرہ ؓ ان دو برتنوں کے ساتھ روغنی مرتبان اور کھجور کے تنے کو کھود کر تیار کردہ برتن کا بھی اضافہ کیا کرتے تھے۔
حدیث حاشیہ:
قبل از اسلام لوگ جن برتنوں میں شراب بنایا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں نبیذ بنانے سے بھی منع کر دیا۔ اس غرض سے عموماً چار قسم کے برتن استعمال ہوتے تھے جن کی تفصیل ہم آئندہ بیان کریں۔ اس حدیث میں ان چار برتنوں کا بیان ہے۔ حرمت شراب کی ابتدا میں ان برتنوں کے استعمال سے بھی منع فرما دیا گیا مگر بعد میں ان کی اجازت دے دی گئی۔
ترجمۃ الباب:
معن بن عیسٰی نے کہا: میں نے حضرت انس ؓ ”فقاع“ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: اگر اس میں نشہ نہ ہوتو (اس کے پینے میں) کوئی حرج نہیں ابن دراوردی نے کہا: ہم نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اگر اس میں نشہ نہ ہوتو کوئی حرج نہیں
فائدہ: فقاع وہ مشروب ہے جو خشک انگوروں سے تیار کیا جاتا تھا اگر اس میں نشہ نہ ہوتو اسے استعمال کرنے میں چنداں حرج نہیں ہے چانچہ اگر کسی چیز کے زیادہ پینے سے نشہ نہیں آتا تو اسے نوش کیا جاسکتا ہے جیسا کہ فقاع مشروب کے متعلق وضاحت کی گئی ہے واللہ اعلم
حدیث ترجمہ:
اور زہری سے روایت ہے، کہا کہ مجھ سے حضرت انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ''دباء'' اور ''مزفت'' میں نبیذ نہ بنایا کرو اور حضرت ابو ہریرہ ؓ اس کے ساتھ ''حنتم'' اور ''نقیر'' کا بھی اضافہ کیا کرتے تھے۔
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چار ایسے برتن ہیں جن کے استعمال سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ ''دباء'' یعنی کدو کے توبنے سے۔ ''مزفت'' یعنی روغن دار رال کے برتن سے۔ ''حنتم'' یعنی لاکھی ٹھلیا یا لاکھی مرتبان سے۔ ''نقیر'' یعنی لکڑی کے بنے ہوئے برتن سے۔ یہی وہ چار برتن ہیں جن میں نبیذ بنانے سے روکا گیا ہے۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
Anas bin Malik (RA) said: Allah's Apostle (ﷺ) said, "Do not make drinks in Ad-Dubba' nor in Al-Muzaffat. Abu Hurairah (RA) used to add to them Al-Hantam and An-Naqir.