قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ التَّطْبِيقِ (بَابٌ نَوْعٌ آخَرُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1052.   أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ حِمْيَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا يَقُولُ إِذَا رَكَعَ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَمُخِّي وَعَصَبِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

سنن نسائی:

کتاب: رکوع کے دوران میں تطبیق کا بیان 

  (

باب: ایک اور مزید ذکر

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1052.   حضرت محمد بن مسلمہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نفل نماز میں کھڑے ہوتے تو رکوع کے دوران میں یوں عرض پرداز ہوتے: ”اے اللہ! میں تیرے لیے جھکا، تجھے مانا، تیرا فرماں برادر بنا اور تجھ پر بھروسا کیا۔ تو میرا رب ہے۔ میرے کان، آنکھیں، گوشت، خون، مغز اور پٹھے اللہ رب العالمین کے سامنے عاجزی اور تواضع کرتے ہیں۔“