قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ السَّهْوِ (بَابُ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1220.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ وَاسْمُهُ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَالْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ كُلْثُومٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَهَذَا حَدِيثُ الْقَاسِمِ قَالَ كُنْتُ آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَيَرُدُّ عَلَيَّ فَأَتَيْتُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَلَمَّا سَلَّمَ أَشَارَ إِلَى الْقَوْمِ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْنِي أَحْدَثَ فِي الصَّلَاةِ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا إِلَّا بِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا يَنْبَغِي لَكُمْ وَأَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ

سنن نسائی:

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: نماز میں (مسنون ادعیہ کے علاوہ )کوئی کلام کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1220.   حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا کرتا تھا جب کہ آپ نماز پڑھ رہے ہوتے۔ میں آپ کو سلام کہتا تو آپ مجھے سلام کا جواب دے دیا کرتے تھے۔ ایک دن میں آیا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ کو سلام کہا، آپ نے مجھے جواب نہیں دیا۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”(اے لوگو!) اللہ تعالیٰ نے نماز کے بارے میں ایک نیا حکم جاری کیا ہے کہ تم (نماز میں) اللہ کے ذکر اور نماز کے مناسب الفاظ کے علاوہ کوئی کلام نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور سکون سے کھڑے رہو۔“