قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ السَّهْوِ (بَابُ مَا يَفْعَلُ مَنْ سَلَّمَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ نَاسِيًا وَتَكَلَّمَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1228.   أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمًا فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَدْرَكَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُقِصَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ فَقَالَ لَمْ تُنْقَصْ الصَّلَاةُ وَلَمْ أَنْسَ قَالَ بَلَى وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ قَالُوا نَعَمْ فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ

سنن نسائی:

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جوآدمی بھول کردو رکعتوں کےبعد سلام پیھر دے اور باتیں بھی کرلےتو کیا کرئے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1228.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن نماز پڑھی اور دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا اور اٹھ کر چلے گئے تو ذوالشمالین ؓ آپ کو جاکر ملے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی یا آپ بھول گئے؟ آپ نے فرمایا: ”نماز کم ہوئی ہے نہ میں بھولا ہوں۔“ اس نے کہا: کیوں نہیں (کچھ تو ہوا ہے۔) قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! رسول اللہ ﷺ نے (لوگوں سے مخاطب ہوکر) فرمایا: ”کیا ذوالیدین درست کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں۔ تو آپ نے لوگوں کو دو رکعتیں مزید پڑھائیں۔