قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجُمْعَةِ (بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَخَطِّي رِقَابِ النَّاسِ وَالْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1399.   أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَانِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ جَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ

سنن نسائی:

کتاب: جمعۃ المبارک سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: امام جمعےکے دن منبر پر(خطبہ دے رہا)ہو تو لو گوں کی گردنیں پھلانگ کرآگےجانےکی ممانعت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1399.   حضرت ابو زاہریہ بیان کرتے ہیں کہ میں جمعے کے دن حضرت عبداللہ بن بسر ؓ کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا تو انھوں نے کہا: (رسول اللہ ﷺ کے دور میں) ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا تو اس سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”او! بیٹھ جاؤ۔ تم نے لوگوں کو تکلیف دی ہے۔“