قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ (بَابُ اللَّعِبِ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْعِيدِ وَنَظَرُ النِّسَاءِ إِلَى ذَلِكَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1596.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ دَخَلَ عُمَرُ وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُمْ يَا عُمَرُ فَإِنَّمَا هُمْ بَنُو أَرْفِدَةَ

سنن نسائی:

کتاب: نماز عیدین کے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: عید کےدن مسجد میں (جنگی) کھیل کھیلنااور عورتوں کا ان کو دیکھنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1596.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ مسجد میں داخل ہوئے تو حبشی مسجد میں (جنگی کھیل) کھیل رہے تھے۔ حضرت عمر ؓ نے انھیں ڈانٹا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عمر! رہنے دو۔ یہ بنوارفدہ (حبشی لوگ) ہیں (اور جنگی کھیل کھیلنا ان کی فطرت میں داخل ہے)۔“