قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ (بَابُ ذِكْرِ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الْقِيَامُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1618.   أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ مَعْمَرٍ وَالْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ كُنْتُ أَبِيتُ عِنْدَ حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الْهَوِيَّ ثُمَّ يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ الْهَوِيَّ

سنن نسائی:

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: قیام اللیل کےآ غازکی دعائیں

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1618.   حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی ؓ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے حجرے کے قریب سوتا تھا۔ جب آپ رات کو (تہجد کے لیے) اٹھتے تو میں سنتا کہ آپ دیر تک (سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) ”پاک ہے اللہ جو جہانوں کا رب ہے“ پڑھتے رہتے، پھر دیر تک (سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ) ”اللہ تعالیٰ تمام عیوب و نقائص سے پاک ہے اور تمام تعریفوں والا ہے۔“ پڑھتے۔