قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: کِتِابُ صِفَةِ الْوُضُوءِ (بَابُ تَرْكُ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ مِنْ غَيْرِ شَهْوَةٍ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

166.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ اللَّيْثِ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي وَإِنِّي لَمُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ اعْتِرَاضَ الْجَنَازَةِ حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ مَسَّنِي بِرِجْلِهِ

سنن نسائی:

کتاب: وضو کا طریقہ 

  (

باب: آدمی اپنی عورت کو بعیر شہوت کے ہاتھ لگائے تو وضو واجب نہیں

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

166.   حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ بے شک اللہ کے رسول ﷺ نماز پڑھتے ہوتے اور میں آپ کے سامنے اس طرح لیٹی ہوتی جیسے جنازہ ہوتا ہے حتیٰ کہ جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو مجھے پاؤں لگا کر جگا دیتے۔