قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَنْ قَدَّمَ ثَلَاثَةً)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1877.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ قَالَ حَدَّثَنِي طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ قَالَ حَدَّثَنِي جَدِّي طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا يَشْتَكِي فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَافُ عَلَيْهِ وَقَدْ قَدَّمْتُ ثَلَاثَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنْ النَّارِ

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جس شخص کے تین بچے فوت ہو جائیں؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1877.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے مریض بیٹے کو لے کر آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! مجھے اس (کی موت) کا خطرہ ہے جبکہ پہلے بھی میرے تین بچے مر چکے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے آگ سے (بچنے کے لیے) مضبوط رکاوٹ تیار کرلی ہے۔“