قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الْأَمْوَاتِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1938.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ يَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيَنْصَحُ لَهُ إِذَا غَابَ أَوْ شَهِدَ

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: فوت شدگان کو برا کہنے کی ممانعت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1938.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کے مومن پر چھ حق ہیں: جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی بیمار پرسی کرے، جب وہ فوت ہو جائے تو (اس کے کفن، دفن اور جنازے میں) شریک ہو، جب وہ دعوت دے تو قبول کرے، جب وہ اسے ملے تو سلام کہے، جب اسے چھینک آئے تو اسے دعا دے اور اس کی خیر خواہی کرے جب وہ غائب ہو یا موجود۔“