قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَكَانِ الْمَاشِي مِنْ الْجَنَازَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1945.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَمَنْصُورٌ وَزِيَادٌ وَبَكْرٌ هُوَ ابْنُ وَائِلٍ كُلُّهُمْ ذَكَرُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا مِنَ الزُّهْرِيِّ يُحَدِّثُ أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ يَمْشُونَ بَيْنَ يَدَيْ الْجَنَازَةِ بَكْرٌ وَحْدَهُ لَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ مُرْسَلٌ

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: پیدل (جنازے کے ساتھ )کہاں چلے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1945.   حضرت ابن عمر ؓ نے بیان فرمایا کہ انھوں نے نبی اور ابوبکر و عمر و عثمان‬ ؓ ک‬و جنازے کے آگے آگے چلتے دیکھا ہے۔ روایت کے راویوں میں سے اکیلے بکر راوی نے حضرت عثمان ؓ کا ذکر نہیں کیا۔ روایت کے راویوں میں سے اکیلے بکر راوی نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا امام ابو عبدالرحمٰن (نسائی) ؓ نے کہا ہے کہ یہ روایت (موصول) غلط ہے اور مرسل صحیح ہے۔