قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى مَنْ يَحِيفُ فِي وَصِيَّتِهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1958.   أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مَنْصُورٍ وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةً مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ وَقَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ ثُمَّ دَعَا مَمْلُوكِيهِ فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جوآدمی وصیت میں ظلم کر جائے تو اس کا جنازہ؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1958.   حضرت عمران بن حصین‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دیے۔ ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال نہ تھا۔ یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ اس پر بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: ”میرا ارادہ ہوا کہ میں اس کا جنازہ نہ پڑھوں۔“ پھر آپ نے اس کے غلام بلائے، ان کے تین حصے کیے، پھر ان میں قرعہ ڈالا۔ دو کو آزاد فرمایا اور چار کو غلام رکھا۔