قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ الدُّعَاءِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1987.   أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُورَةٍ وَجَهَرَ حَتَّى أَسْمَعَنَا، فَلَمَّا فَرَغَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: «سُنَّةٌ وَحَقٌّ»

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جنازے کی دعائیں

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1987.   حضرت طلحہ بن عبداللہ بن عوف بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ کے پیچھے ایک میت کا جنازہ پڑھا۔ انھوں نے سورۂ فاتحہ اور ایک اور سورت پڑھی اور (دونوں) بلند آواز سے پڑھیں حتیٰ کہ ہمیں سنائی دیں۔ جب وہ فارغ ہوئے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور ان سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: یہ سنت اور حق ہے۔