قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ الدُّعَاءِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1988.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ: تَقْرَأُ، قَالَ: «نَعَمْ، إِنَّهُ حَقٌّ وَسُنَّةٌ»

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جنازے کی دعائیں

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1988.   حضرت طلحہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ کے پیچھے ایک جنازہ پڑھا۔ میں نے انھیں سورۂ فاتحہ پڑھتے سنا۔ جب وہ جنازے سے فارغ ہوئے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور ان سے پوچھا کہ کیا آپ (جنازے میں) قراءت کرتے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: ہاں، یہ حق ہے اور نبی (ﷺ) کی سنت ہے۔