قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2052.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَسَارٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا وَسُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ وخَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ، فَذَكَرُوا أَنَّ رَجُلًا تُوُفِّيَ مَاتَ بِبَطْنِهِ، فَإِذَا هُمَا يَشْتَهِيَانِ أَنْ يَكُونَا شُهَدَاءَ جَنَازَتِهِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَقْتُلْهُ بَطْنُهُ، فَلَنْ يُعَذَّبَ فِي قَبْرِهِ» فَقَالَ الْآخَرُ: بَلَى

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جوشخص پیٹ کی تکلیف سے مر جائے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2052.   حضرت عبداللہ بن یسار بیان کرتے ہیں کہ میں سلیمان بن صرد اور خالد بن عرفطہ ؓ کے پاس بیٹھا تھا کہ لوگوں نے ایک شخص کا ذکر کیا جو پیٹ کی تکلیف سے فوت ہوگیا تھا۔ ان دونوں میں سے ہر ایک بزرگ نے خواہش ظاہر کی کہ اس کے جنازے میں شریک ہوں۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا: ”جو آدمی پیٹ کی تکلیف سے مر جائے، اسے عذاب قبر نہیں ہوگا؟“ تو دوسرے نے کہا: کیوں نہیں! (آپ نے ضرور فرمایا تھا)۔