قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ وَضْعِ الْجَرِيدَةِ عَلَى الْقَبْرِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2070.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: قبر پر شاخ رکھنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2070.   حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے تو اس پر اس کا ٹھکانا صبح شام پیش کیا جاتا ہے۔ اگر وہ جنتی ہو تو جنتی ٹھکانا اور اگر وہ جہنمی ہو تو جہنمی ٹھکانا (اور یہ سلسلہ جاری رہے گا) حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن قبر سے اٹھا لے (تو پھر وہ اس میں داخل ہو جائے گا)۔“