قسم الحديث (القائل): قدسی اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ أَرْوَاحُ الْمُؤْمِنِينَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2080.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُسِيءُ الظَّنَّ بِعَمَلِهِ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اطْحَنُونِي، ثُمَّ اذْرُونِي فِي الْبَحْرِ، فَإِنَّ اللَّهَ إِنْ يَقْدِرْ عَلَيَّ لَمْ يَغْفِرْ لِي، قَالَ: فَأَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَلَائِكَةَ فَتَلَقَّتْ رُوحَهُ، قَالَ لَهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ: يَا رَبِّ، مَا فَعَلْتُ إِلَّا مِنْ مَخَافَتِكَ، فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: مو منین کا روحیں

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2080.   حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی اپنے اعمال کے بارے میں برا گمان رکھتا تھا (کہ وہ قابل معافی نہیں)، لہٰذا جب اس کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر پیس کر آٹا کر دینا، پھر میری راکھ کو سمندر میں اڑا دینا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر قابو پا لیا تو مجھے ہرگز معاف نہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تو انھوں نے اس کی روح نکال لی، پھر اللہ تعالیٰ نے (اس کا ڈھانچا حاضر کیا اور) فرمایا: جو کچھ تو نے کیا، کیوں کیا؟ اس نے کہا: اے میرے رب! میں نے جو کچھ کیا، تیرے ڈر سے کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کردیا۔“