قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: صفات و شمائل للنبی صلی اللہ علیہ وسلم

سنن النسائي: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ ذِكْرِ اخْتِلَافِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ عَائِشَةَ فِيهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2183.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ حَرَّانِيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ سَأَلْتُهَا عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا تَامًّا مُنْذُ أَتَى الْمَدِينَةَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَمَضَانُ

سنن نسائی:

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: حضرت عائشہؓ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2183.   حضرت عبداللہ بن شقیق سے منقول ہے کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے رسول اللہﷺ کے (نفل) روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ روزے رکھنے لگتے تو ہم کہتے کہ رکھتے ہی رہیں گے اور چھوڑتے تو ہم کہتے: چھوڑے ہی رہیں گے۔ اور آپ نے مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد رمضان المبارک کے علاوہ کبھی مسلسل ایک مہینہ روزے نہیں رکھے۔