قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: کِتَابُ ذِكْرِ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ (بَابُ ذِكْرِ الِاسْتِتَارِ عِنْدَ الِاغْتِسَالِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

224.   أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ قَالَ كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ قَالَ وَلِّنِي قَفَاكَ فَأُوَلِّيهِ قَفَايَ فَأَسْتُرُهُ بِهِ

سنن نسائی:

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ 

  (

باب: غسل کرتے وقت لوگوں سے پردے کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

224.   حضرت ابو سمح ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ جب آپ غسل کا ارادہ فرماتے تو مجھ سے فرماتے: ’’میری طرف اپنی پیٹھ کرلو۔‘‘ میں آپ کی طرف پیٹھ کر لیتا۔ اس طرح میں آپ کو پردہ بھی کر دیتا۔