قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: کِتَابُ ذِكْرِ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ (بَابُ ذِكْرِ الِاسْتِتَارِ عِنْدَ الِاغْتِسَالِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

225.   أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا ذَهَبَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَوَجَدَتْهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ فَسَلَّمَتْ فَقَالَ مَنْ هَذَا قُلْتُ أُمُّ هَانِئٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ مُلْتَحِفًا بِهِ

سنن نسائی:

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ 

  (

باب: غسل کرتے وقت لوگوں سے پردے کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

225.   حضرت ام ہانی ؓ سے روایت ہے کہ میں فتح مکہ کے دن نبی ﷺ کے پاس گئی تو میں نے آپ کو غسل کرتے پایا جب کہ حضرت فاطمہ‬ ؓ ن‬ے آپ کو ایک کپڑے سے پردہ کر رکھا تھا۔ میں نے سلام کہا تو آپ نے فرمایا: ’’کون؟‘‘ میں نے کہا: ام ہانی! جب آپ غسل سے فارغ ہوئے تو آپ نے ایک کپڑے میں آٹھ رکعات پڑھیں جب کہ وہ (کپڑا) آپ نے کندھوں پر لپیٹ رکھا تھا۔