قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: کِتَابُ ذِكْرِ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ (بَابُ ذِكْرِ الْقَدْرِ الَّذِي يَكْتَفِي بِهِ الرَّجُلُ مِنْ الْمَاءِ لِلْغُسْلِ)

حکم : صحیح الإسناد

ترجمۃ الباب:

226.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ قَالَ أُتِيَ مُجَاهِدٌ بِقَدَحٍ حَزَرْتُهُ ثَمَانِيَةَ أَرْطَالٍ فَقَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِمِثْلِ هَذَا

سنن نسائی:

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ 

  (

باب: پانی کی وہ مقدار جس پر آدمی غسل کے لیے اکتفا کر سکتا ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

226.   موسیٰ جہنی سے روایت ہے کہ حضرت مجاہد کے پاس ایک پیالہ لایا گیا۔ میرے اندازے کے مطابق وہ آٹھ رطل تھا۔ مجاہد کہنے لگے کہ مجھ سے حضرت عائشہ‬ ؓ ن‬ے بیان کیا: بے شک رسول اللہ ﷺ اتنے پانی سے غسل فرما لیا کرتے تھے۔