قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: کِتَابُ ذِكْرِ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ (بَابُ ذِكْرِ الدَّلَالَةِ عَلَى أَنَّهُ لَا وَقْتَ فِي ذَلِكَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

231.   أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ ح وَأَنْبَأَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَهُوَ قَدْرُ الْفَرَقِ

سنن نسائی:

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ 

  (

باب: اس بات کی دلیل کہ غسل کے لیے پانی کی کوئی مقدارمقرر نہیں

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

231.   حضرت عائشہ‬ ؓ ب‬یان کرتی ہیں کہ میں اور اللہ کے رسول ﷺ ایک برتن سے غسل کیا کرتے تھے جو تقریباً ایک فرق کے برابر ہوتا تھا۔