قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ صَوْمُ النَّبِيِّ ﷺ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي وَذِكْرُ اخْتِلَافِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ فِي ذَلِكَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2370.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ عَاشُورَاءَ قَالَ مَا عَلِمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا يَتَحَرَّى فَضْلَهُ عَلَى الْأَيَّامِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ

سنن نسائی:

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: نبیﷺآپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں کے روزے کا بیان اور اس بارے میں وارد روایت کے ناقلین کےاختلاف کا ذکر

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2370.   حضرت عبیداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا جبکہ حضرت ابن عباسؓ سے عاشوراء کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا، آپ نے فرمایا: میں تو نہیں جانتا کہ نبیﷺ نے کسی دن کو دوسرے دنوں سے افضل سمجھ کر اس کا روزہ رکھا ہو، سوائے اس دن کے، یعنی عاشوراء اور ماہ رمضان المبارک کے۔