قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ ذِكْرِ الِاخْتِلَافِ عَلَى غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ فِيهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2383.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ غَيْلَانَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ فَغَضِبَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَسُئِلَ عَمَّنْ صَامَ الدَّهْرَ فَقَالَ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ

سنن نسائی:

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: اس روایت میں غیلان بن جریر کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2383.   حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے آپ کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ناراض ہوگئے۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا: ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمدﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہیں، پھر آپ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو بلا ناغہ روزے رکھتا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ چھوڑا۔“