قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: کِتَابُ ذِكْرِ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ (بَابُ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

239.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ ح و أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءِ وَاحِدٍ يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ حَتَّى يَقُولَ دَعِي لِي وَأَقُولُ أَنَا دَعْ لِي قَالَ سُوَيْدٌ يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ فَأَقُولُ دَعْ لِي دَعْ لِي

سنن نسائی:

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ 

  (

باب: اس کی رخصت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

239.   حضرت عائشہ‬ ؓ ف‬رماتی ہیں کہ میں اور اللہ کے رسول ﷺ ایک برتن سے غسل کرتے تھے۔ میں آپ سے جلدی (غسل) کرنے کی کوشش کرتی اور آپ مجھ سے جلدی کرتے حتیٰ کہ آپ فرماتے: ’’میرے لیے پانی رہنے دو۔‘‘ اور میں کہتی: آپ میرے لیے پانی چھوڑ دیں۔ (راویٔ حدیث) سوید نے (یوں) کہا: آپ مجھ سے جلدی کرتے اور میں آپ سے جلدی کرتی، چنانچہ میں کہتی: آپ میرے لیے (پانی) چھوڑ دیں۔ آپ میرے لیے (پانی) چھوڑ دیں۔