قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ عُقُوبَةِ مَانِعِ الزَّكَاةِ)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

2444.   أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ لَا يُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا فَلَهُ أَجْرُهَا وَمَنْ أَبَى فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ إِبِلِهِ عَزْمَةٌ مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا شَيْءٌ

سنن نسائی:

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: زکاۃ نہ دینے والے کی سزا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2444.   حضرت بہز بن حکیم کے دادا (حضرت معاویہ بن حیدہ قشیرہ ؓ) سے روایت ہے، انھوں نے کہا، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا: ”صحرا میں چرنے والے اونٹوں میں سے ہر چالیس اونٹوں میں ایک بنت لبون (دو سالہ اونٹنی) ہے۔ (دوران وصولی) اونٹوں کے حساب ومقدار سے انھیں الگ نہ کیا جائے گا۔ جو شخص (خوشی سے ثواب کی خاطر زکاۃ دے گا، اس کو اس کا ثواب ملے گا اور جو دینے سے انکار کرے گا ہم زکاۃ بھی لیں گے اور (اس کے ساتھ ساتھ) اس کے نصف اونٹ بھی لیں گے۔ (کیونکہ) یہ زکاۃ ہمارے رب کے فرائض میں سے ایک اہم فریضہ ہے۔ حضرت محمد ﷺ کے خاندان کے لیے کچھ بھی زکاۃ لینا (اپنی ذات کے لیے) جائز نہیں۔